سوشل میڈیا پر قارئین کی اقسام

تحریر:-حسنین کاظمی

13 مارچ، 2021


سوشل میڈیا پر قارئین کی اقسام
(In English and Urdu)

جب سے سوشل میڈیا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے تب سے اگر دیکھا جائے تو معاشرے میں تعلیم ' شعور ' بیداری 'آگاہی الغرض انفارمیشن سمیت تمام شعبہ زندگی میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔۔۔

سوشل میڈیا کے ذریعے میرے جیسے بہت سارے لوگوں کو لکھنے کا موقع ملتا ہے۔۔چونکہ بحثیت لکھاری میری ہر تحریر پہ کمنٹس بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اس کے علاوہ باقی لوگوں کے کمنٹس بھی پڑھتا رہتا ہوں۔۔

جس وجہ سے مجھے  تحریر پر اپنی رائے دینے والے بے شمار قاریوں کی سوچ کو پرکھنے کا موقع ملا۔۔یہ تجربہ آج اپنی اقسام کی سیریز کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ کی نظر کرتا ہوں۔۔۔

لکھاری سے محبت رکھنے والے قاری

یہ وہ قارئین ہوتے ہیں جو لکھاری سے فطری طور پہ عاشقانہ و محبوبانہ جذبات رکھتے ہیں،اور لکھاری کی شخصیت سے کافی متاثر ہوتے ہیں۔۔۔

یہ لکھاری کی ہر تحریر کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور جوں ہی تحریر منظر عام پر آتی ہے یہ فورا اپنا عقیدت اور محبت بھرا کمنٹ کر کے سب سے پہلے حاضر ہوتے ہیں۔

ان کی ایک خاص بات یہ ہیکہ تحریر چاہے جیسی بھی ہو یہ ہمیشہ حوصلہ افزا کمنٹ کریں گے ۔یہ لکھاری کی ہر تحریر کو محبت و پیار کے ترازو میں تولتے ہیں۔

میٹھے لہجے اور خوبصورت الفاظ اور منفرد انداز میں کمنٹ کر کے لکھاری کے ساتھ محبت کا جذبہ قائم کرتے ہیں ۔۔۔۔

بغض سے بھرے ہوئے قاری 

جی ہاں۔۔۔۔یہ وہ قسم ہے جو کسی ذاتی وجہ سے یا لکھاری کی بے پناہ شہرت و مقبولیت کی وجہ سے یہ حضرات  لکھاری سے سخت خائف ' نالاں اور جلے سٹرے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ ہر وقت لکھاری کی پوسٹ کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔۔کہ کب تحریر منظر عام پہ آئے اور یہ غلاظت سے بھرپور لفظوں کے ساتھ اپنے اندر کا گندا لاوا جو ہر وقت ابل رہا ہوتا ہے.

نکال کے باہر پھینکیں۔۔ان کی ایک خاصیت یہ ہیکہ یہ لکھاری کی تحریر چاہے سو فیصد معاشرے کی اصلاح ' سبق آموز  اور یہاں تک کے ایمان افروز بھی ہو لیکن پھر بھی ہر صورت اپنی عادت سے مجبور پوسٹ کو تنقید کا نشانہ ضرور بناتے ہیں۔۔۔

ان کی ایک اور خاص خوبی اور نشانی یہ بھی ہیکہ ان کو اگر تحریر میں کوئی منفی پہلو نہ ملے تو یہ تحریر کے ساتھ لگی تصویر کو اپنا ٹارگٹ بناتے ہیں اور با الفرض تحریر اور تصویر دونوں موزوں اور مناسب ہوں تو یہ تحریر پہ قسم نمبر 01 والے  قارئین مطلب لکھاری سے بے پناہ اور بے لوث محبت کرنے والے قارئین کے واہ واہ ' حوصلہ افزاء اور عقیدت مندی سے بھرپور کمنٹس نظر آنے پہ ان سے خواہ مخواہ الجھ جاتے ہیں۔

یہ لکھاری سے بغض ' کینہ اور حسد کی آڑ میں خواہ مخواہ خود ہی بھٹی میں پڑی آگ کی طرح جلتے رہتے ہیں۔

یہ حضرات خود تو کسی بھی عنوان پہ کبھی کوئی بصیرت افروز یا سبق آموز تحریر لکھنے کی اہلیت و صلاحیت تو نہیں رکھتے،مگر کسی بھی تحریر پہ اپنا جلا سڑا کمنٹ کر کے خود کو لکھاری سے بھی اوپر والا دانشور تصور کرانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

ان کے اندر اصل میں ہر بات سے کیڑا نکالنے والا کیڑا ہوتا ہے،جو ان کو ہر وقت بے چین رکھتا ہے۔

اسی لیے یہ اپنا کمنٹ لکھتے وقت یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پہ ہر ایک کے ساتھ رشتہ دار ' سسرال اور کثیر تعداد میں طلبہ بھی ایڈ ہوتے ہیں.

جو ان کی اس طرح کی منفی اپروچ کو باریکی سے دیکھ کر ان کے اصل چہرہ کو بے نقاب ہوتا ہوا بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

مگر یہ حضرات خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے کوئی وار ہاتھ سے خالی نہیں جانے دہتے۔۔مگر ان عقل کل سمجھنے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ لوگ ان کے گھٹیا ترین اور ذاتیات پہ حملہ والے کمنٹس پڑھ کر ان کی عقل پہ قل پڑھ چکے ہوتے ہیں۔۔۔

          مذہبی مولوی قاری

یہ حضرات تحریر کو بڑے غور سے مطالعہ کرتے ہیں اور لکھاری کی ہر تحریر کو مذہبی ترازو میں تولتے ہیں.اگر تحریر ان کے معیار پہ پورا اترے تو خاموشی اختیار کرتے ہیں،اگر کوئی ذرہ برابر بھی گڑھ بڑھ ہو تو یہ فورا فتویٰ جاری کرتے ہیں ۔۔۔اور یہ لکھاری کو کھری کھری سناتے ہوئے مشرک ' مذہب بیزار '  لبرل و آزاد خیال جیسے خطابات سے نوازتے ہیں۔۔۔اور تو اور یہ تحریر پہ کیے گے کمنٹس کرنے والوں کو مذہبی ترازو میں تولتے ہوئے ان کو سخت آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ اور لکھاری سمیت نیچے کمنٹس کرنے والوں کو جائز ناجائز اور حلال و حرام کی بحث میں الجھائے  رکھتے ہیں۔۔  

                 علمی قاری  

ان حضرات میں اکثر خود بھی لکھاری ہوتے ہیں۔۔۔۔اسلیے لکھاری کی لکھی گئی کسی بھی تحریر پر اپنا دانشورانہ ' فلسفیانہ '  ماہرانہ ' علمی و ادبی اور انتہائی شائستہ لہجے کے ساتھ اپنا تبصرہ لکھ کر لکھاری کی تحریر کی مزید تشریح کرتے ہیں۔

خود لکھاری نہ بھی ہوں پر علم و ادب سے تعلق ہونے کی وجہ سے علم کے داعی اور باذوق ہوتے ہین۔ان کی رائے  ہمیشہ صائب کمال اور دلنشین ہوا کرتی  ہے۔یہ وسیع ترمطالعہ کی وجہ سے  تجزیہ نگاری کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ان کی آراء خاصی دلچسپ ' بصیرت افروز اور قابل توجہ ہوتی ہیں۔

اور لکھاری کو نیک تمناؤں اور محبت بھرے منفرد انداز میں دعائیں دیتے ہوئے.اور کمنٹس پڑھنے والوں کو اپنے قلم ' سوچ و فکر کے جادو سے ایک نیا اور مثبت پیغام دے جاتے ہیں۔ان کا شاندار تبصرہ لکھاری کے لیے بڑا حوصلہ افزا ہوتا ہے اور لکھاری کو مزید اچھا اور متاثر کن  لکھنے کا شوق پیدا کرتا ہے۔۔۔

        ٹھرکی قاری 

یہ قاری کی وہ قسم ہے جو لکھاری کی پوسٹ  اور پوسٹ پہ کمنٹ پڑھنے کے بجائے ان کمنٹس کو للچائی نظروں سے  دیکھتے ہیں۔اور کمنٹس میں کہیں ان کو مستورات کے کمنٹس نظر آ جائیں تو ٹھرکیں مارتے ہوئے فورا ان کو فرئینڈ ریکوسٹ بھیجتے ہیں اور ساتھ ہی انباکس میں میسج بھی کر دیتے ہیں۔۔

پراسرار،پوشیدہ اور خاموش قاری

یہ قاری کی وہ قسم ہے جو لکھاری کی ہر تحریر پڑھتے ہیں۔مگر کبھی بھی لائیک یا کمنٹ کرنے کی جسارت نہیں کریں گے۔ان میں زیادہ تر لکھاری کے کچھ رشتہ دار

 بڑے عہدے پہ براجمان سرکاری افسران،اور اساتذہ کرام شامل ہوتے ہیں۔۔

بعض رشتہ دار تو لکھاری کے ساتھ بغض ' کینہ یا حسد کی وجہ سے پوسٹ پہ کمنٹ یا لائیک نہیں کرتے  اور بعض کو شائد کمنٹ کرنا یا لکھنا ہی نہیں آتا ہوتا۔۔۔اور اعلی سرکاری یا پرائیویٹ  عہدوں پہ فائز حضرات اس وجہ سے کمنٹ نہیں کرتے کیونکہ ان کو لگتا ہے کے کمنٹ کرنے سے کہیں ان کی آن ' بان ' شان میں یا مقام مرتبہ میں کوئی کمی نہ آ جائے۔۔۔

نوٹ ! میری ان آراء سے کسی متفق ہونا ضروری نہیں۔


Post a Comment

1 Comments