محکمہ
تعلیم نے 'خطرناک اسکولوں' کی رپورٹس کو مسترد کردیا۔
خط
و کتابت اس کے مناسب سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جا رہی تھی۔
ریز_آف_لائٹس
، تعلیم کراچی: محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ
نے صوبے بھر کے 6220 سرکاری اسکولوں کو باضابطہ طور پر خطرناک قرار دینے کی خبروں کو
مسترد کرتے ہوئے اس تاثر کو حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔
محکمہ
نے کہا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی معلومات محکمہ اور متعلقہ انجینئرنگ ونگ کے درمیان
اندرونی خط و کتابت اور تکنیکی مشاورت سے متعلق تھیں۔
حکام
کے مطابق خط و کتابت اس کے مناسب سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جا رہی تھی۔
محکمہ
نے وضاحت کی کہ 2022 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے سندھ بھر میں تقریباً 20,000 اسکولوں
کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا۔

0 Comments