ابا جی کے نام

عین شاہ.

17 اگست، 2021 


ابا جی کے نام۔

ہمیشہ جب بھی کچھ لکھنے لگتی ہوں تو الفاظ کم پڑ جاتے. ہیں سمجھ نہیں آتا کیا لکھوں مگر جب بھی والدین کے لیے کچھ لکھنے لگوں تو لفظ ختم ہی نہیں ہوتے.

کیا کیا لکھوں وہ وقت جو انکے ساتھ گزرا یا وہ وقت جو انکے بغیر گزرا یا گزر رہا ہے. وقت تو گزر ہی جاتا ہے.

مگر والدین جو اولاد کی تربیت کرتے ہیں وہ اولاد کو کبھی بھولنے ہی نہیں دیتی کوئی لمحہ جب ابا جی کی یاد نا آئی ہو.

فادرز ڈے 

مدرز ڈے

 سسٹرز ڈے 

کزنز ڈے 

دوستوں کا دن

میرے لیے تو ہر دن یہی انہیں رشتوں کا دن ہوتا ہے.

 میں تو کوئی دن ان رشتوں کی یاد کے بنا ان رشتوں کو منائےبنا نہیں گزارتی.

چھ (6) سال ہو گئے ابا جی کو اس دنیا سے گئے ایسے لگتاہے ابھی یہیں سے آجایں گیں.

لگتا ہے ابھی نماز پڑھ کے آئیں گے اور میرا نام پکار کر کہیں.

انکی ڈانٹ میں بھی پیار ابا جی بھی کہا کرتے تھے جو باتیں تمہیں کڑوی لگتی ہیں جب نہیں ہونگا تویاد کروگے۔۔

وہ سچ کہتے تھے ۔۔۔

ہم یاد کرتے ہیں

ہم بہت یاد کرتےہیں۔۔

شکر الحمد للّٰہ کے انہوں نے اچھی تربیت دی اپنے پاوں پر کھڑا کیا وہ نا ہوتے تو کچھ بھی نہیں تھے ہم

اب انکےبنا بھی کچھ نہیں ہیں۔

باپ کا ایک بڑا روعب ہوتا ہے۔۔

ایک خوف سخت 

سمجھ نہیں آیا کرتا تھا یہ سختی کس چیز کی ہے۔۔

پر اب سمجھ آتی ہے۔۔

اب سب سمجھ آتا ہے۔۔۔

سنا تھا والد اپنی بیٹی سے زیادہ پیار کرتے ہیں 

اب آ کر سمجھ آی والد کو بیٹیاں پیاری کیوں ہوتی ہیں۔

کبھی ماں نہیں کہتی یہ میری بیٹی نہیں بیٹا ہے۔۔۔

مگر

 ہر والد کے منہ سے ہمیشہ سنا یہ میری بیٹی نہیں بیٹا ہے۔۔۔

یہ میرا شیر ہے۔۔۔

باپ چاہتا ہے میری بیٹی کبھی کمزور نا ہو 

میری بیٹی بہادر ہو

ہر گرم سرد ہواؤں کے رخ سمجھتی ہو 

میں ابھی بھی بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں الفاظ ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہے۔۔۔

پر بس اتنا کہ باپ ایک بہت محبت کرنے والی شخصیت ہے

خود گرم سرد ہواوں کا سامنا کرتا ہے اپنی اولاد کے لیے۔۔۔

پر چاہتا ہے اسکی اولاد اس سب کا سامنا کبھی نا کرے۔۔۔

پر ازل سے یہ ایک اٹل حقیقت ہے جو دنیا میں آیا ہے تو جانا بھی ہے۔۔۔

کسی بھی برے وقت کے خوف سے ہر والد اپنی بیٹی کو بہادر دیکھنا چاہتے ہیں۔۔

میں شکر گزار ہوں اپنے اباجی کی جنہوں نے اعتماد دیا پیار دیا وہ سب جو ایک باپ اپنی بیٹی کودے سکتا ہے۔۔




Post a Comment

0 Comments