جہالت

 تحریر :-فرح ھارون

                                

جہالت

 آج موسم خشگوار اور کافی ٹھنڈا تھا.اس نے سوچا کیوں نہ چائے کے ساتھ تھوڑے پکوڑے بھی بنا لیے جائیں اپنی اس کے سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے وہ ٹرے میں دو کپ چائےاور پکوڑے لیے اپنی ساس کے پاس جا پہنچی۔

ساس نے بُرا سا منہ بنا کر چائے کا کپ لے لیا،اور بددلی سے بولی ارے بہو اب اور کتنا انتظار کروائے گی ایک عرصہ گزر گیا ہے میں نے اپنے پوتے کا منہ نہیں دیکھا۔

بہو کا چہرہ پھیکا پڑ گیااور وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔امی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ سعد کو بھی دوائی کھانی چاہیے.اس لیے اگر ایک دفعہ وہ بھی میرے ساتھ چلے جاتے چیک اپ کے لیے تو....

ارے چپ کر ناس پیٹی تجھے میرے بیٹے میں کمی لگتی ہے..؟ تو خاندان بھر میں ہماری ناک کٹوانا چاھتی ہے۔ساس نے بہو کی بات کاٹتے ہوئے چڑ کر بولا تو اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔

وہ دن رات روتی خدا سے دعا کرتی رہتی ساس کے دل کو خوش کرنے کے لیے دن رات کام کرتی گھر کی صفائی ستھرائی حتی کہ پنکھے تک صاف کرتی،مگر ساس کے مزاج پھر بھی نہ ملتے رات کو کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر اس نے سعد سے بات کی آپ پلیز ایک بار ہی ہسپتال چلے جائیں۔

دیکھو میں ہسپتال نہیں جاؤنگااور نہ ہی میں کوئی دوائی کھاونگا یہ بات تم سمجھ جاؤ تو بہت بہتر ہوگا۔

آخر اس میں حرج کیا ہے ہانی  نے چڑ کر کہا ضروری تو نہیں کہ آپ میں کوئی کمی ہے یا مجھ میں کوئی کمی ہے.ویسے بھی علاج کروانا سنت ہے۔

یہ لو بی بی مجھے معاف کرو سعد نے ہاتھ جوڑ دی۔اسی طرح سات سال گزر گئے مگر ہانی کی گود نہ ہری ہوئی اب ساس نے سعد کی دوسری شادی کے بارے میں ہانی کو آگاہ کیا.

ہانیہ روتی ہوئی ماں کے گھر پہنچی اور سارا احوال بتایا۔ارے یہ کیا جہالت ہے کہ سعد علاج نہیں کرواے گا؟

ہانی کی ماں نے کہا چلو میں بات کرتی ہوں سعد کی امی سے تم پریشان نہ ہو۔دیکھیں بہن میری بیٹی کوئی بانجھ نہیں ہے اسکی ساری رپورٹس صاف ہے بس خدا کی مرضی ہے وہ جب چاہے نواز دے.

آپ ایک دفعہ سعد کو بھی ہسپتال لے جائیں.میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہی کہ سعد میں کوئی کمی ہے.لیکن ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ دونوں میاں بیوی کو دوائی کھانی چاہیے۔

ارے بس بہن آپکی بڑی مہربانی آپ لوگ ہماری عزت نہ اچھالو سعد کو کسی دوائی کی ضرورت نہیں ہے.اب فون رکھیں خدا حافظ۔

ارے۔۔۔۔ انہوں  نے تو فون ہی کاٹ دیا ہانی کی امی پریشانی سے بولی۔رہنے دیں امی انکو سمجھانا پتھر پے سر مارنے کے برابر ہے وہ شام کو گھر آئی تو ساس کا موڈ خراب پا کر چپ چاپ کام میں لگ گئی۔

دوستوں کیا پتہ ہانی اب طلاق لے لے گی یا نہیں لیکن سعد جسے جاہل مردوں کا کیا بنے گا..؟

ہمارے معاشرے میں جانے کتنی ایسی خواتین ہیں جو اولاد نہ ہونے کا طعنا سنتی ہیں،اور اندر ہی اندر سسرال والوں کی باتیں برداشت کرتی ہیں.

اگر سعد کی دوسری بیوی سے بھی اولاد نا ہو تو؟ اور اگر ہانی طلاق لے کر دوسری شادی کر لے اور اس کی اولاد ہو جاے تو کیا پھر سعد کی بے عزتی نہیں ہوگی.؟

آج کل کے اس دور میں بھی کچھ ایسے جہالت سے بھرے گھر موجود ہیں جو اس طرح کی گھٹیا سوچ رکھتے ہیں اگر مرد اس معاملے میں عورت کا ساتھ دے اور اپنا علاج کرواے تو کوئی شرم کی بات نہیں ہے.

لیکن نہیں مرد کی تو شان میں کمی آ جاتی ہے نا اس کی ناک کٹ جاتی ہے.اس کی عزت کم ہو جاتی ہے،لوگ اس کے بارے میں کیا باتیں کرینگے..

رشتے دار کیا کہیں گے اسکو یہ ہی فکر لگی رہتی ہے دراصل رشتے دار آپ کا گھر اجاڑ کر سائیڈ پر  ہو جائیں آج جو رشتے دار ہانی جیسی عورتوں کے مخالف ہے کل اسکی اولاد ہو جانے پر اس کے ساتھ اور سعد جیسے لوگوں کے مخالف ہو جاے گے.

اس لیے رشتے دار اور لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے اپنے گھر کے مسئلے اپنے تک رکھے اور اپنی سوچ مثبت رکھیں۔

اللہ تعالی ہمارے معاشرے میں موجود ایسی سوچ رکھنے والے  لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے.آمین


Post a Comment

0 Comments